ممبئی، 25؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہنومان جینتی کے موقع پر شوبھا یاترا کے دوران فرقہ وارانہ تصادم کا شکار ہونے والے دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کے فروغ کیلئے مقامی افراد نے اتوار کو ترنگا یاترانکالی اور تشدد کیلئے بیرونی عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ جہانگیر پوری کے ڈیڑھ کلومیٹر علاقے میں کم وبیش ۵؍ لاکھ افراد رہتے ہیں جن کا تعلق یوپی، بہار،مغربی بنگال، راجستھان اور گجرات سے ہے۔ جہانگیر پوری کی امن کمیٹی کے رکن زاہد نے بتایا کہ ’’۱۹۷۰ء میں مختلف ریاستوں سے لوگ یہاں آکر بسنے لگے۔ ‘‘ مقامی افراد کے مطابق ۱۶؍ اپریل کو شرپسندوں کا نشانہ بننے والی جامع مسجد کا سنگ بنیاد ۱۹۷۸ء میں رکھا گیاتھااور تعمیر ۳؍ سال میں مکمل ہوئی جبکہ قریب ہی واقع کالی مندر کی تعمیر ۱۹۸۴ء میں شروع ہوئی۔ مقامی افراد کے مطابق ۱۹۷۰ء سے اب تک یہاں کبھی کوئی فساد نہیں ہواتھا۔ ۱۶؍ اپریل کو شوبھا یاترا کے دوران ہونے والا تشدد اس علاقے کا پہلا فساد ہے۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے بھائی چارہ کا اندازہ اس بات سے پہلے ہو چکا ہے کہ پولیس نے جس انصار کو کلیدی ملزم بنایا ہے، اس کا دفاع یہاں کے مسلم مکینوں سے زیادہ غیر مسلم مکیں کررہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ۱۹۷۰ء کے آس پاس بنگال سے آکر یہاں بس جانے والے مسلمانوں نے کالی مندر بنوائی تھی۔ ہنومان جینتی سے قبل یہاں کبھی اس طرح کا تشدد نہیں ہوا۔ جہانگیر پوری میںاب بھی چپے چپے پر پولیس تعینات ہےجبکہ سنیچر کو امن کمیٹی کی میٹنگ میںدونوں فرقوں کے افراد نے ایکدوسرے کو گلے لگا کر دوریاں ختم کرنے کی کوشش کی ۔